Tuesday, May 09, 2006

حملہ یا ڈکیتی؟


حملہ یا ڈکیتی؟
شمالی وزیرستان میں ایک اور امریکی حمکلے نے ثابت کیا کے پاکستانی (مجھ سمیت) اب موج مستی والے لوگ ہیں، اگر وزیرستان میں غیر ملکی حملے ہو رہے ہیں تو اس میں کراچی، لاہور حتیٰ کے بعض پشاور والوں کو بھی کیا لگے (ان شہروں سے مراد ملک کا تمام طبقہ ہے) بھئی ہم ٹی وی پر بیٹھے بھارتی فلم دیکھیں یا اپنے ملک کی حفاظت کریں؟ فلم دیکھنے سے ہمیں تمام لوازمات ملیں گے، جبکہ اپنے ملک کی خاطر آواز اٹھانے میں مشکلات اور وقت درکار ہے، گولی کا خطرہ ہے۔۔۔
شرم آتی ہے پاکستان کے نامراد، مغربی پالتو حکمرانوں پر۔۔ کیا ان میں اتنی بھی غیرت نہیں رہ گئی کے ان کے سامنے کچھ بول ہی لیں؟ بھئی ہاں۔ ابھی قصوری کہیں بیٹھ کر (امریکہ سے باضابطہ اجازت لے کر) دو چار سخت جملے ادا کر دیں گے اور بس۔ کیا بات ہے ہماری وفادری کی، ایک امریکی اخبار نے پاکستان کو کتا قرار دیا تھا، جس کی اصل وجہ ہمارے حکمران ہیں، پالتو کچھ بھی نہیں کر سکتےسوائے وفاداری کے۔۔ ہاں مالک چاہے تو گولی بھی مار دے۔۔ لیکن پالتو اگر پاگل ہو جائے تو مالک کو بھی مرنا پڑ سکتا ہے۔۔ لیکن ہمارے حکمران بہت عقلمند ہیں۔۔
مجھے سمجھ نہیں آتی کے ہم متحد کیوں نہیں ہوتے؟ کیا یہ ملک صرف مذہبی جماعتوں کا ہے، کے جب کبھی ایسا واقعہ ہوا تو انہوں نے ہنگامے برپا کر دیے لیکن ہم پاکستانیوں کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔۔ یہی مذہبے جماعتیں ایسا کرتی ہیں تو دو چار دن میں کھیل ختم ہو جاتا ہے، لیکن اگر ہم اس کام کی زمہ داری قبول کر لیں تو یہ کھیل کھیل نہیں بلکہ ایک عمل بن سکتا ہے۔۔
لیکن افسوس ہم سماج کی رنگینیوں میں اس قدر مست ہیں کے آج کوئی چور ہمارے گھر گھس کر قیمتی سامان اٹھا لے جائے تو ہمیں ہوش نہیں ہوتا، بعد میں واویلہ مچا کر پولیس کو گالیاں دے کر اور جس قدر سامان چوری ہوا ہے اس سے دس گنا زیادہ لکھا کر چپ ہو جاتے ہیں۔۔
لیکن جب بھی امریکی چور ہمارے ملکی سالمیت پر ڈکیتی کرتا ہے تو ہم کیوں خاموش رہتے ہیں؟ کیا ہمارا زاتی گھر اس ملک میں نہیں ہے؟
کبھی اس قوم کے جوان اپنی جانوں کے نذرانے دی کر اس وطن عزیز کی حفاظت کرتے تھے آج ان کو کمانڈ کرنے والے خود بیرونی ڈاکو ہیں۔۔