Wednesday, September 13, 2006

مس بکنی آف اسلامی جمہوریہ پاکستان

حکومت پاکستان کے جھوٹے بیانات

پاکستانی نسل کی امریکی لڑکی ماریہ موٹن (معین یا متین) نے مس بکنی آف دی یونیورس میں حصہ کیا لے لیا حکومت پاکستان نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ بھئی اس میں غصے کی کیا بات ہے۔ یہ خود حکومت ہی کی روشں خیال پاکستان کی ایک پالیسی کا حصہ ہے۔ اور پوری دنیا میں اس کا شور شروع ہو رہا ہے تاکہ ساری دنیا دیکھ لے پاکستان کی روشن تصویر کو۔

حکومت پاکستان ہے کہ جھوٹے بیانات پر بیانات دیتی جا رہی ہے ۔ ان کا کہنا ہے ان کو خبر نہیں تھی کہ ایسا ہونے جا رہا ہے جبکہ میرے پاس اس بات کے کئی ثبوت میرے ای میل ایڈریس میں موجود ہیں کہ راقم نے وزارت ثقافت کو اس بات سے کئی ماہ پہلے آگاہ کیا تھا یا نہیں۔ یہی نہیں بلکہ میں نے روشن خیال جرنیل پرویز مشرف کو ایک سال پہلے اس بات سے آگاہ کیا تھا پھر ایک بار نہیں کئی بار۔ یہ وہ جرنیل ہیں جو صبح کوئی بیان دیتے ہیں اور شام کو اس کی تردید فرما دیتے ہیں۔

یہ خود حکومت کی پالیسی ہے۔ ہوگا یہ کہ ایک بار حکومت ان کو روکے گی اور پھر اس مسلے کو سیاسی رنگ دے دیا جائے گا، عاصمہ جہانگیر اس مسلے کو اٹھائیں گی، اور انسانی حقوق کی اور حصوصا عورتوں کے حقوق کی تنظیمیں اس میں سرگرم ہو جائیں گی، چند مولوی اس بات پر احتجاج کریں گے (کر کچھ نہیں پائیں گے)، تنظیمیں انا کا مسلہ بنائیں گی اور وہی پولیس جو ان کو منع کر رہی ہے اور ان پر مقدمات لکھ رہی ہے، ان کی حفاظت کی زمہ دار ٹھہرےگی۔ اس کے بعد یہ مقابلے کینیڈا اور امریکہ میں نہیں بلکہ لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں ہوا کریں گے۔ ہر شہر کی اعلیٰ خاندانوں کی لڑکیاں ان شہروں میں بکنی پہن کر شرکت کریں گی، پھر مس لاہور، مس کراچی، مس اسلام آباد ، مس پیشاور، مس کوئٹہ چنی جائیں گی اور ان سب کا آخری مقابلہ ہوگا اور ان میں سے آگے جانے والی مس پاکستان کا انتخاب ہو گا۔ بالکل میراتھن ریس کی طرح۔ پہلے حکومت نے ڈنڈے کے زور پر میراتھن روکی اور بعد میں خود اہتمام سے اس کو کرانا شروع کر دیا۔ سونے پر سہاگہ یہ معاملے شروع بھی ان دنوں ہوا جب حدود آرڈینینس کا شور و غوغہ ہے، تاکہ عوام کی توجہ ہٹائی جا سکے، اس عوام کی جو اب بے انتہا بے حس ہو چکی ہے۔ جو صرف خود کا سوچتی ہے، خود کو پاکستانی گردانتی ہے مگر اس کے لیے کچھ بھی کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اس کی بجائے کیبل پر کوئی بھارتی فلم دیکھنا وقت کو بچا لینے کا سنہیری طریقہ ہے۔

اور پاکستان کو تو کہا ہی ناکام ریاست جاتا ہے، اس کے لوگ ناکام، احساس محرومی کا شکار عوام، ثقافتی یلغار کے سامنے گھٹنے ٹیکنے والی عوام،جو شائد آئندہ اپنے نکاح کی رسم میں بھی پھیرے لگانےشروع کردیں۔ جن کی ہر تقریب کی زینت بھارتی گانے ہوتے ہیں۔ ہر رسم بھارتی، ملبوسات، فیشن، گرل فرینڈ بوائے فرینڈ یہ سب بھارتی ثقافت کی دین ہے۔ جو لوگ ٹیلیوژن پر بے حیائی جو ہوتے ہوتے سافٹ کور سیکس وڈیو تک جا پہنچی ہے، جو کے مجرا سی ڈی کے نام پر عام اور نہائت کم قیمت پردستیاب ہے، کو نہیں روک پائے اور ان چیزوں کو زندگی کا حصہ سمجھ کر قبول کر لیا۔ اب اپنی بہن بیٹیوں کو مس بکنی میں بھیجیں گے کیونکہ بھارت یہ کرتا ہے اور مغرب میں اپنا عکس روشن کرنے کے لیے ہم خود کوئی بھی قربانی دے سکتے ہیں۔ یہ چیزیں بھی آنے والے وقت میں زندگی کا حصہ بن جائیں گی۔

ماریہ موٹن نے کہا ہے کے اس نے تمام بند توڑ دیے ہیں اب تمام پاکستانی لڑکیاں ایسا کر سکتی ہیں اور انہیں ایسا کرنا چاہیے بھی۔ اور آئندہ بھی پاکستانی لڑکیاں ان مقابلوں میں جاتی رہیں گی، چند قدامت پسندوں کی وجہ سے ہم لوگ باز نہیں آئیں گے۔ ماریہ نہیں جانتی کہ وہ جس خاندان سے تعلق رکھتی ہے اس قسم کے خاندان پاکستان میں گنتی کہ ہیں اور یہ چیزیں انہی میں عام ہیں۔ ماریہ کے مطابق وہ لالی وڈ یعنی پاکستانی فلم انڈسٹری جس کا وجود اسرائیل کی طرح شکوک کا شکار ہے میں اپنی قسمت آزمانا چاہیں گی۔ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ اصل میں وہ بالی وڈ میں ہی جائے گی یعنی وہی بھارتی فلم انڈسٹری جس کے گن گاتے پاکستانی تھکتے نہیں۔ بھارت میں وہ جا کر میرا سے زیادہ روشن کردار کر کے پاکستان کی نام نہاد عزت کے پرخچے اڑائے گی۔ کیونکہ ماریہ کے خیال میں میرا نے جو کیا ہے اس میں کچھ غلط نہیں کیونکہ اس کے بعد اس کی پاکستان میں مانگ بڑھ گئی ہے۔ ماریہ لالی وڈ میں صرف اس لیے لائی جائے گی تاکہ پاکستانی اس حساس مسلے کو فلمی اور شوبز کی لڑکی سمجھ کر قبول کر لیں۔ جو کہ ہماری ثقافت میں ایک بہت بڑی اور انقلابی تبدیلی ہے۔ اس کے بعد وہ بالی وڈ میں جائے گی اور دنیا پر یہ بات ثابت ہو جائے گی کے پاکستان بھارت کے بغیر نا مکمل ہے۔پاکستان کی ثقافت انتہائی کمزور ہے جو بیرونی ثقافتی یلغار کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور ان کو بھارتی ثقات کو استعمال کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان کی نام نہاد خود ساختہ دوشیزہِ پاکستان (جس کے دوشیزہ ہونے پر بھی میں مشکوک ہوں) بھی آخر بالی وڈ میں آ گئی اور پاکستان کا نام روشن کر رہی ہے۔

یہ مقابلے فقت وقتی طور پر مشہوری کا باعث ہوتے ہیں، کچھ عرصے بعد ایسی لڑکیاں فلموں میں آجاتی ہیں اور بس۔ ہو گئی ملک کی نمائندگی۔ اور ایسی شخصیات (اگر ملک کی عوام کی مرضی سے بھیجی گئی ہوں) کو ہر لحاظ میں اپنے ملک کے میڈیا پر ہی آنا چاہیے۔ خیر ہماری ثقافت اور مذہب میں ایسے مقابلوں کی سرے سےکوئی گنجائش ہے ہی نہیں اس لیے اس بات کو کسی صورت قبول نہیں کرنا چاہیے۔

بلاگروں کے رویے پر بہت افسوس ہوا۔ افضل صاحب نے اس بارے میں لکھا تو اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا، کسی نے اپنے طور پر اس مسلے کے خلاف نہیں لکھا۔ اگر یہی بلاگ سپاٹ کو کھلوانے کا مسلا ہوتا تو بلاگر اسے اپنی انا کا مسلہ بنا کر دھواں دھار تحاریر لکھتے، پی ٹی اے اور اپنی متعلقہ آی ایس پی اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے رابطے کرتے کے بلاگ سپاٹ سے پابندی ہٹائی جائے۔ لیکن اس مسلے پر معافی چاہوں گا ہمارے کچھ عزت مآب بلاگرز جو کے بلاگ سپاٹ کی حالیہ تبدیلیوں پر گاہے گاہے ہمیں مطلع کرتے رہتے ہیں، پی ٹی اے اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا پتہ دیتے یں کہ یہاں میل کریں اور احتجاج ریکارڈ کرائیں اور اس کے ساتھ ساتھ اکثر اخبارات کی ویبسائٹوں پر خطوط لکھتے رہتے ہیں۔لیکن اس مسلے پر محترم بزرگ بھی خاموش ہیں۔

ایک اور بات۔ مس پاکستان میں ایک اور لڑکی سحر محمود، جو اب پاکستان کی نمائندگی مس ارتھ میں کرے گی اور اس میں بھی بکنی پہنی جائے گی۔ گزشتہ سال بھی رمضان المبارک میں ایک لڑکی نومی زمان اس میں حصہ لے چکی ہے اور راقم اس بارے میں بہت پہلے حکومت کو آگاہ کرتا رہا ہے لیکن کچھ نہیں ہوا اور وہ لڑکی بکنی پہن کر کیٹ واک کر چکی کسی نے کوئی قدم نہیں اٹھایا اس بارے میں افضل صاحب کا ممنون ہوں انہوں نے میرے خط کو اپنے بلاگ پر جگہ دی جو کہ یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔

مس پاکستان ورلڈ نامی اس کمپنی کی منتظمہ سونیہ احمد (احمدی) نے ہمیشہ پاکستانیوں کی توہین کی ہے۔ بات پاکستانی عام لوگ کریں تو وہ اسے ملاؤں کی سازش قرار دیتی ہے اور اب حکومت پاکستان اور پاکستانیوں کے خلاف بیانات دے رہی ہے نیز وہ حکومت کے سامنے اس بات سے صاف انکاری ہے کہ وہ اپنی سرگرمیوں کو ختم کرے گی۔ اس کا کہنا ہے ہم پاکستانی ہیں اور کوئی ہمیں ان کاموں سے روک نہیں سکتا۔ اس نے یہ ہرزہ سرائی کی ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر نہیں بنا تھا، یہ ایک سیکولر ریاست بنے گی ہمیں 1981 والا نہیں 1960 والا پاکستان چاہیے۔ اگر یہ پاکستان کی اتنی ہی خیر خواہ ہے تو پاکستان سے باہر کیوں رہ رہی ہے؟ اس کے گلچھڑے اڑانے کی باتیں بھی چھپی نہیں ہیں۔ کینیڈا میں مقیم پاکستانیوں کی اکثریت اسے احمدی کے طور پر جانتی ہے اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مسلم لڑکیاں ایسا نہیں کر کتیں بلکہ اس کی وجہ احمدیوں کے پاکستان کے بارے میں خیالات کے متعلق لوگوں کو جو تحفظات ہیں یہ سب اس وجہ سے ہے۔ اور وہ نہائت ڈھٹائی سے میڈیا پر خود کو سنی مسلم کہتی ہے۔ کراچی میں رہنے والے وہ لوگ جو اسے جانتے ہیں ان سے اگر پوچھا جائے تو بات کھل جائے۔ اس کو ملاؤں سے سخت نفرت ہے جو کہ میرے خیال میں ابھی اس معاملے پر کچھ بھی نہیں بولے یہ حکومت پاکستان کا خود کا دکھاوے کا شور ہے اور باقی جو عوام اس چیز کے خلاف ہیں، لگتا ہے ملاؤں نے اس کو کسی زہنی یا جسمانی زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کے خود کو ایک نہائت بہادر کہنے والا جرنیل جو کہ خود یہ کہتا ہے کہ میں ایک بہادر کمانڈو تھا، میں نے موت کو چھ سیکنڈوں سے دیکھا ہے مجھے اللہ تعالٰی کے علاوہ کوئی ڈرا نہیں سکتا، وہ بہادر نکلتا ہے یہ یہ ایک عام سی عیاش حرافہ عورت سونیا احمد عرف احمدی۔ کیا پاکستان کے ارباب اختیار اتنے کمزور ہیں دیکھنا تو یہ ہے کے ایک اسلامی جمہوریہ ملک کا صدر اور اس کا چیف آف آرمی سٹاف بہادر ہے کہ نہیں۔ اگر جرنیل اس کو نہ روک پایا تو پاک فوج کے بارے میں لوگوں میں جو تحفظات ہیں ان میں مزید اضافہ ہوتا جائے گا اور عوام فوج سے مزید دور ہوتی جائے گی۔ پاکستان یا اسلام کی خاطر نہ سہی کم از کم اپنی سیٹ کی عزت کی خاطر اور اپنی انا (جو کے مغرب کے سامنے زمین چاٹتی نظر آتی ہے) کی خاطر ہی انہیں روک لیا جائے اوراسے پاکستانیوں کی عزت اور بے بسی کا نشان نہ بننے دیا جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو کل کو کوئی فقیر، غنڈے موالی یا کتے تک مغرب میں پاکستان کی شان میں ہرزہ سرائی کریں گے۔

میں یہاں موجود محترم بلاگرز سے درخواست کرتا ہوں کہ ایک مجموعی خط لکھا جائے۔ اور اسے اردو سیارہ اور اردو بلاگرز کی طرف سے بھیجا جائے، اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا جائے اور آئندہ ایسی سرگرمیاں نہ ہو سکیں اس کے لیے کوئی مستقل لائحہ عمل کا مطالبہ کیا جائے اس کے علاوہ ایسی سرگرمیوں کے خلاف حکومت کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اردو سیارو اور بلاگران کا زکر کیا جائے تاکہ اس خط کو ایک ہی آدمی کا عمل نہ تصور کیا جائے اور تمام وہ لوگ جو خود کو مسلمان تصور کرتے ہیں اور پاکستانی ثقافت کو بچانا چاہتے ہیں وہ مذکورہ خط مندرجہ ذیل ای میل ایڈریس اور جنرل پرویز مشرف کی ویبسائٹ پر ان کو کاپی پیسٹ کر دیا جائے بمع اپنے نام ای میل اور بلاگ کے ایڈریس کے۔ یہ ہوتا ہے ایک مجموعی اور جمہوری طریقہ کسی کام کو نکلوانے کا۔ اگر ہم ایسا نہیں کرتے ہیں تو ہمیں پاکستانی کہلانے کا کوئی حق نہیں۔ آج ہم اسے نہ روک پائے تو کل کو دشمنان پاکستان کاخواب پورا ہو جائے گا اور پاکستان میں بھی پورنو گرافی کی انڈسٹری قائم ہو جائے گی اور دنیا یہاں عیاشیاں کرنے آیا کرے گی جیسے انقلاب سے قبل ایران کا حال تھا۔

میں آپ سب سے التماس کرتا ہوں کے درج زیل ای میل ایڈریس پر میل کریں اور احتجاج ریکارڈ کرائیں۔ اور پرویز مشرف کی ویبسائٹ پر مطالبہ کیا جائے کے ان چیزوں کو ختم کیا جائے اور مناسب قانون سازی کی جائے ۔

http://www.presidentofpakistan.gov.pk/WTPresidentMessage.aspx
minister@culture.gov.pk

خدا پاکستان کو ہمیشہ ایک اسلامی اور فلاحی مملکت کے روپ میں قائم و دائم رکھے اور اس کے اور اسلام کے دشمنوں کو غارت کرے، اور ہمیں ہدائت عطا فرمائے۔ آمین

یاسر خان

Tuesday, May 09, 2006

حملہ یا ڈکیتی؟


حملہ یا ڈکیتی؟
شمالی وزیرستان میں ایک اور امریکی حمکلے نے ثابت کیا کے پاکستانی (مجھ سمیت) اب موج مستی والے لوگ ہیں، اگر وزیرستان میں غیر ملکی حملے ہو رہے ہیں تو اس میں کراچی، لاہور حتیٰ کے بعض پشاور والوں کو بھی کیا لگے (ان شہروں سے مراد ملک کا تمام طبقہ ہے) بھئی ہم ٹی وی پر بیٹھے بھارتی فلم دیکھیں یا اپنے ملک کی حفاظت کریں؟ فلم دیکھنے سے ہمیں تمام لوازمات ملیں گے، جبکہ اپنے ملک کی خاطر آواز اٹھانے میں مشکلات اور وقت درکار ہے، گولی کا خطرہ ہے۔۔۔
شرم آتی ہے پاکستان کے نامراد، مغربی پالتو حکمرانوں پر۔۔ کیا ان میں اتنی بھی غیرت نہیں رہ گئی کے ان کے سامنے کچھ بول ہی لیں؟ بھئی ہاں۔ ابھی قصوری کہیں بیٹھ کر (امریکہ سے باضابطہ اجازت لے کر) دو چار سخت جملے ادا کر دیں گے اور بس۔ کیا بات ہے ہماری وفادری کی، ایک امریکی اخبار نے پاکستان کو کتا قرار دیا تھا، جس کی اصل وجہ ہمارے حکمران ہیں، پالتو کچھ بھی نہیں کر سکتےسوائے وفاداری کے۔۔ ہاں مالک چاہے تو گولی بھی مار دے۔۔ لیکن پالتو اگر پاگل ہو جائے تو مالک کو بھی مرنا پڑ سکتا ہے۔۔ لیکن ہمارے حکمران بہت عقلمند ہیں۔۔
مجھے سمجھ نہیں آتی کے ہم متحد کیوں نہیں ہوتے؟ کیا یہ ملک صرف مذہبی جماعتوں کا ہے، کے جب کبھی ایسا واقعہ ہوا تو انہوں نے ہنگامے برپا کر دیے لیکن ہم پاکستانیوں کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔۔ یہی مذہبے جماعتیں ایسا کرتی ہیں تو دو چار دن میں کھیل ختم ہو جاتا ہے، لیکن اگر ہم اس کام کی زمہ داری قبول کر لیں تو یہ کھیل کھیل نہیں بلکہ ایک عمل بن سکتا ہے۔۔
لیکن افسوس ہم سماج کی رنگینیوں میں اس قدر مست ہیں کے آج کوئی چور ہمارے گھر گھس کر قیمتی سامان اٹھا لے جائے تو ہمیں ہوش نہیں ہوتا، بعد میں واویلہ مچا کر پولیس کو گالیاں دے کر اور جس قدر سامان چوری ہوا ہے اس سے دس گنا زیادہ لکھا کر چپ ہو جاتے ہیں۔۔
لیکن جب بھی امریکی چور ہمارے ملکی سالمیت پر ڈکیتی کرتا ہے تو ہم کیوں خاموش رہتے ہیں؟ کیا ہمارا زاتی گھر اس ملک میں نہیں ہے؟
کبھی اس قوم کے جوان اپنی جانوں کے نذرانے دی کر اس وطن عزیز کی حفاظت کرتے تھے آج ان کو کمانڈ کرنے والے خود بیرونی ڈاکو ہیں۔۔

Wednesday, March 01, 2006

بلاگستانی؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ویسے تو میں پاکستانی ہوں (الحمدللہ) لیکن انٹرنیٹ کی دنیاء میں بلاگستانی کے نام سے لکھوں گا۔
جس میں پاکستان کے متعلق اور اپنے متعلق اور اسلام کے متعلق لکھنے کی کوشش کروں گا۔۔۔ میں کوئی مولوی نہیں ہوں لیکن بس ایک گناہ گار سا بندہ اور قدامت پسند ہوں، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کے جدت پسند نہیں۔۔
انتظار۔۔۔۔